DR SARDAR MUHAMMAD SHOAIB KHANMIRPUR · AZAD KASHMIR
All opinions

جماعت اسلامی سے شکوہ

جماعت اسلامی کی بنیاد مولانا مودودی نے ایک انقلابی اسلامی سیاسی جماعت کے طور پر رکھی تھی جس کا مقصد ریاست مدینہ کے طرز پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا جہاں اللہ، قران اور سنّت کی حکمرانی ہو اور دنیا کے سامنے آج کل کے دور میں اسلام اور قران کو مکمل دین کی طرح نافذ کر کے ایک نمونہ پیش کیا جائے اور مسلم امت کے وجود کے اصل مقصد تبلیغ کی راہ ہموار کی جا سکے. آج جب آپ جماعت اسلامی کی سیاست کا بغور جایزہ لیں تو آپ کو ایک نسبتا صاف سیاسی جماعت تو ضرور نظر آے گی لیکن اس کی سیاست میں دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد دور دور تک کم از کم میں دیکھنے سے قاصر ہوں.

جماعت اسلامی بھی اب اقتدار اور طاقت کی سیاست کرتی نظر آتی ہے، جس طرح پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ یا پھر کسی حد تک تحریک انصاف کرتی ہیں. یہ بات سچ ہے کہ کوئی بھی تبدیلی لانے کیلئے اقتدار ضروری ہے لیکن ایک سیکولر سیاسی جماعت اور ایک اسلامی سیاسی جماعت کی طرز سیاست میں فرق ضرور ہونا چاہئے. میری نظر میں جماعت کو عوامی سطح پر خطر خواہ کامیابی نہ ملنے کی وجہ بھی یہی کہ جماعت اپنی الگ اور واضح شناخت بنانے اور قایم رکھنے میں ناکام ہے اور ایک عام پاکستانی مسلمان جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کے سیاسی مقاصد میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھ سکتا. ایم ایم اے کے طور پر جب جماعت اسلامی کو کے پی کے میں اقتدار ملا بھی تو انہوں نے اسلامی نظام کی نفاذ کی طرف کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہیں کی.

آخری مرتبہ کب جماعت اسلامی نے ملک سے سود کے خاتمے کے لیے کوئی مظاہرہ کیا؟ آخری مرتبہ کب جماعت اسلامی نے تحریک انصاف سے کہا کے نصاب میں قرانی عربی اور ترجمے کے ساتھ قران کو ہر سطح پر شامل کیا جائے ورنہ ہم اتحاد سے الگ ہو جایں گے؟ کیوں جماعت اسلامی یہ بات نہیں کرتی کے قرارداد مقاصد کو پوری طرح آ ین پر حاوی سمجھا جائے اور عملی طور پر نافذ کیا جائے؟

علامہ اقبال نے جس اسلامی فلاحی ریاست پاکستان کا خواب دیکھا تھا اس کے قیام کے لئے انتہایی ضروری ہے کے ایک محرک انقلابی طاقتور اسلامی جماعت ہو جو یا تو خود اقتدار حاصل کر سکے یا پھر تحریک انصاف جیسی جماعت کی اتحادی ہو اور اقتدار اور طاقت کے حصول سے زیادہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کو ضروری سمجھتی ہو. اس سلسلہ میں مولانا فضل الرحمٰن سے امید رکھنا تو کسی بوڑ کے درخت پہ آم لگنے کی امید رکھنے کے مترادف ہو گا لیکن جماعت اسلامی مجھے ایک ایسی جماعت ضرور نظر آتی ہے جس کے پاس مالی و اخلاقی کرپشن سے نسبتا پاک لیڈرز اور نظریاتی اور منظم اراکین موجود ہیں. اب کمی صرف یہ رہ گئ ہے کے جو نظریات مودودی صا حب کی کتابوں میں لکھے پڑے ہیں ان کو عملی طور پر سیاست میں لاگو کیا جائے.

عملی طور پر میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ جماعت اسلامی اپنے اگلے الیکشن کے منیفسٹو میں شامل کرے کہ ملک سے سود کا خاتمہ کیا جائے، تعلیمی نظام میں اس طرح تبدیلی کی جائے کے جو بھی طالب علم میٹرک پاس کرے وہ قران کو ترجمے کے بغیر عربی سے سمجھ سکے، قرارداد مقاصد کو پورے آین پر حاوی سمجھا جائے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے نفاذکو ضروری قرار دیا جائے. تحریک انصاف کے ساتھ متوقع اتحاد انہی شرایط پر کیا جائے نہ کے وزارتوں کے حصول کے لئے.

آخر میں اتنا کہوں گا کہ اگر واقعی میں جماعت اسلامی اپنے اصلی نظریات کی سیاست کرے جن کی بنیاد پہ مودودی صاحب نے اس کو قایم کیا تھا تو مجھ سمیت ہر سچا پاکستانی مسلمان اپنی سیاسی وفاداریوں پہ نذر ثانی کرنے پہ مجبور ہو جائے گا.

Originally published on WordPress.